تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محمد ابراہیم عرف ارمان لونی کی ہلاکت کا مقدمہ دو ماہ بعد درج کر لیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ لورالائی شہر کے پولیس اسٹیشن میں عبد القیوم کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں لورالائی پولیس کے ایک سینئر افسر اے ایس پی عطاالرحمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق عبدالقیوم نے کہا ہے کہ ارمان لونی اور بعض دیگر افراد دو فروری 2019 کو تحصیل روڈ پر جارہے تھے۔ جونہی وہ پبلک لائبریری پہنچے تو پولیس کی نفری وہاں پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیے

لورالائی میں ہلاک ہونے والے ارمان لونی کون تھے؟

’اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟

’پی ٹی ایم کی وجہ سے کئی گھروں میں خوشیاں لوٹ آئیں‘

عبد القیوم کے مطابق ’اے ایس پی عطاالرحمان نے ان سے پوچھا کہ تم میں سے ارمان لونی کون ہے؟ تعارف کرانے پر انہوں نے ارمان لونی کو الگ کھڑا کیا۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’الگ کرنے کے بعد اے ایس پی نے پولیس اہلکاروں کو ارمان لونی کو مارنے کا کہا۔

پولیس اہلکار نے کلاشنکوف کی بٹ سے آہستہ وار کیا۔ جس پر اے ایس پی نے پولیس اہلکار سے کلاشنکوف چھین کر کہا کہ میں کہتا ہوں اسے جان سے مار ڈالو۔‘

ایف آئی آر کے متن کے مطابق پولیس اہلکار سے کلاشنکوف لینے کے بعد اے ایس پی عطاالرحمان نے خود ارمان لونی کے سر اور پیٹ پر بٹ مارے جس سے وہ بے ہوش ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بے ہوش ہونے کے بعد ہم نے چیخ کر کہا کہ ہمیں انھیں ہسپتال لے جانے دو مگر اے ایس پی نے لے جانے نہیں دیا تاہم جب ہم انھیں ایک گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے جانے لگے تو اے ایس پی نے اپنی گاڑی ہماری گاڑی کے سامنے لاکر کھڑی کر دی۔

عبد القیوم کے مطابق ہسپتال پہنچنے کے چند منٹ بعد ارمان لونی کی موت ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY KHURSHEED KHAN Image caption ارمان لونی اپنی بہن وڑانگہ لونی کے ہمراہ

ارمان لونی کی ہلاکت کی ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات پر اے ایس پی عطاالرحمان سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا تاہم اس سے قبل لورالائی پولیس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔

لورالائی پولیس نے یہ کہا تھا کہ پولیس نے نہ ارمان لونی کو گرفتار کیا اور نہ ہی ان پر کوئی تشدد کیا گیا۔

ارمان لونی پشتو زبان کے لیکچرر تھے۔ انقلابی شاعری کی وجہ سے وہ پشتون تحفظ موومنٹ اور قوم پرست نوجوانوں میں مقبول تھے ۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان نے ایک مرتبہ پھر پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی بلوچستان میں داخلے پر مزید 90 روز کے لیے پابندی عائد کی ہے۔

ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ پابندی ایم پی او کے تحت لگائی گئی ہے ۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے کور کیمٹی کے رکن عدنان حسین نے بی بی سی سے بات سے کرتے ہوئے اس پابندی کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ جب منظور پشتین نے دو روز قبل لورالائی میں جلسے کا اعلان کیا تو ایک مرتبہ پھر ان کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔