تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کراچی آج کل ’ٹڈی دل‘ کے حملے کی لپیٹ میں ہے۔ اس سے قبل ٹڈیوں کا حملہ سندھ کے مختلف شہروں میں بھی ہو چکا ہے جس سے فصلوں کو نقصان پہنچا تھا۔

مگر سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ ٹڈی کے حملے سے شہریوں یا فصلوں کو نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔

ساتھ ہی ساتھ سندھ کے وزیرِ خوراک اسماعیل راہو نے شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ ’ٹڈیوں سے گھبرانا نہیں ہے بلکہ اگر چاہیں تو انھیں کھا سکتے ہیں‘۔

اپنے ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ 'ٹڈی دل ہجرت کی پوزیشن میں ہے، دھوپ نکلتی ہے تو اڑ کر دوسری جگہ نکل جاتی ہیں۔ مختلف جگہوں پر ہماری ٹیمیں نکلی ہوئی ہیں مگر کل یہ جس جگہ پر تھیں وہاں آج نہیں ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیے

’اتنی ٹڈیاں آئی ہیں کہ ہمارا تو دماغ کام نہیں کر رہا‘

کیا جھینگر کی آواز ماضی کا قصہ بن جائے گی؟

کیا آپ ان کراہت انگیز کھانوں میں سے کوئی چکھنا چاہیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption کراچی میں ایک چیل ٹڈی کا شکار کر رہی ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ شہریوں کو نقصان نہیں پہنچاتیں البتہ 'اگر شہری چاہیں تو انھیں پکا کر کھا سکتے ہیں'۔

کراچی کے لیے ٹڈی دل کا حملہ ایک نئی چیز ہے۔

کالم نگار ندیم فاروق پراچہ نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کراچی میں ٹڈیوں کا آخری حملہ 1961 میں ہوا تھا جو کہ ایوب دورِ حکومت تھا۔ ان کے مطابق اس کے بعد یہ حملہ اب تقریباً 50 سال بعد ہوا ہے۔

چنانچہ کراچی کے شہریوں کی جانب سے کئی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی گئیں جن میں اس پر دلچسپ تبصرے بھی کیے گئے اور حیرانی کا اظہار بھی کیا گیا۔

کراچی میں ٹڈیوں کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ شہر کے نیشنل سٹیڈیم میں جاری قائدِ اعظم ٹرافی کے میچ کو بھی کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا کیونکہ کھلاڑی چہرہ اور کان ڈھانپنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

کراچی کی مصروف ترین سڑک شارعِ فیصل کی ایک عمارت سے بنائی گئی ویڈیو میں بھی ٹڈیوں کی پرواز دیکھی جا سکتی تھی۔

ٹوئٹر صارف عائشہ میسوروالا نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں لاتعداد ٹڈیوں کو ان کے گھر کی دیواروں پر چپکے ہوئے اور آس پاس اڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ٹڈیوں کو کھانا تو دور، کچھ لوگوں کو تو شاید انھیں دیکھ کر ہی متلی ہوجاتی ہو، لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں نہ صرف ٹڈیوں کو پکوان کا درجہ حاصل ہے، بلکہ اقوامِ متحدہ 2013 میں عالمی طور پر بھوک کے خاتمے کے لیے کیڑوں کو خوراک بنانے پر بھی زور دے چکی ہے۔

اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) اپنی رپورٹ میں بھی نشاندہی کر چکا ہے کہ دنیا سے بھوک کے خاتمے کے لیے کون کون سے کیڑے کھائے جا سکتے ہیں اور ذرا بوجھیں تو ان کیڑوں میں شامل ناموں میں سے ایک کون سا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption ایک کویتی دکاندار کویت سٹی کے ایک بازار میں ٹڈی فروخت کر رہا ہے

لیکن کئی لوگوں کے لیے ٹڈی کھانا ایک ناممکن تصور ہو سکتا ہے۔ اس میں کچھ قصور شاید اس بات کا بھی ہو کہ یہ دکھنے میں کوئی بہت اچھی نہیں لگتیں۔ لیکن سنبل خان نامی ایک ٹوئٹر صارف نے کراچی سے ٹڈی کے ایک پر کی نہایت دلآویز تصویر پوسٹ کی جس میں اس پر بنے دیدہ زیب قدرتی ڈیزائن واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

چنانچہ ضروری نہیں کہ آپ وزیر صاحب کے مشورے کے تحت ٹڈیوں کو کھانے پر ہی غور کریں، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق انھیں دنیا بھر میں سجاوٹ اور آرائش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

بس یہ دیکھ لیجیے گا کہ اس سب میں کہیں کیڑوں کے لیے تکلیف کا پہلو نہ نکلتا ہو۔